ایسے برباد کیا گیا اپکے ملک کو 
پاکستان میں 2016 کے صرف 6 مہینے کے دورانیئے میں 34 میں سے 21 او ایم سیز کو لائسینس دیئے گئے-اوگرا کے قوانین کے مطابق او ایم سیز کو لائیسنس دینے کی شرائط میں پہلی شرط یہ ہوتی ہے کہ ان کے پاس 20 دن کی آئل سٹوریج کا انتظام موجود ہونی چاہیئے-
1/n

پاکستان میں 2016 کے صرف 6 مہینے کے دورانیئے میں 34 میں سے 21 او ایم سیز کو لائسینس دیئے گئے-اوگرا کے قوانین کے مطابق او ایم سیز کو لائیسنس دینے کی شرائط میں پہلی شرط یہ ہوتی ہے کہ ان کے پاس 20 دن کی آئل سٹوریج کا انتظام موجود ہونی چاہیئے-
1/n
لیکن 2016 میں جب ان کو لائیسنس دیئے گئے اس وقت اس چیز کو بائی پاس کرکے ان کو لائیسنس دیئے گئے-اور 2016 میں کس کی حکومت تھی کون وزیر انرجی و توانائی تھا؟ اور20 دن کی آئل سٹوریج کپیسٹی کی شرط کو بائی پاس کرنے کی یقینا رشوت لی گئی ہوگی؟یا سفارش کی ہوگی؟؟ کیا اس پر کاروائی ہوگی؟
2/n
2/n
جون میں پیدا ہونے والے آئل بحران کی رپورٹ کے مطابق اور اس بحران کی ذمہ دار او ایم سیز کو ٹھہرایا گیا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر تیل کی سپلائی روک کر یہ بحران پیدا کیا- اور وزارت پٹرولیم اس پر قابو پانے اور ان کو روکنے میں ناکام رہی ہے-
3/n
3/n
وزارت پٹرولیم کے ماتحت اوگرا کام کرتا ہے اور اس کا یہ کام ہے کہ وہ آئل سٹوریج کپیسٹی و ویری فائی کرے- جبکہ اوگرا کے پاس الحمد اللہ ایسا کوئی میکانزم ہی موجود نہیں ہے جو کہ آئل سٹوریج کپیسٹی کو ویریفائی کرسکے- 2002 میں اوگرا بنا- اور 2016 تک یہ بغیر
4/n
4/n
کسی قانون کے زبانی کلامی چیزوں پر چلتا رہا- 2016 میں قانون تو بنایا گیا لیکن عملی طور پر کرنے والی چیزوں کو اس میں ایڈریس ہی نہیں کیا گیا-مثلا آئل سٹوریج کپیسٹی کو جانچا کیسے جائے؟ کوئی پتہ نہیں، آئل کی مقدار کتنی ہے جس کے بعد حکومت یہ فیصلہ کرے کہ آئل امپورٹ کب کرنا ہے؟
5/n
5/n
اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں؟ یہ خامیاں تجربہ کاروں کی حکومت نے ہی اس میں چھوڑی- اور یہ خامیاں اس وقت ہی سامنے آتی ہیں جب سر پر پڑتی ہے- آئل بحران پیدا ہوا تو یہ خامیاں سامنے آگئی-
Info source @AsimChuadry
Info source @AsimChuadry
Read on Twitter