بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی 😔
کئی سال پہلے لکھا گیا آرٹیکل آج نظر سے گذرا تو سوچا اسے سب کے ساتھ شئیر کروں!

مجھے پچھلے دنوں جون ایلیا کا ایک فقرہ پڑھنے کا اتفاق ہوا ’’ہم ہزار برس سے تاریخ کے دسترخوان پر حرام خوری کے سوا کچھ نہیں کر رہے‘‘
ہم نے واقعی ہزار سال میں۔۔۔۔
جنگوں کے سوا کچھ نہیں کیا!
ہم نے اپنی 14 سو سالہ تاریخ میں اغیار کو اتنا فتح نہیں کیا جتنا ہم ایک دوسرے کو فتح کرتے رہے‘ یہ بات کتنی حیرت انگیز ہے کہ مسلمانوں نے عالم اسلام کا 95 فیصد علاقہ اسلامی عروج کی پہلی صدی میں فتح کر لیا تھا‘ اس کے بعد ساڑھے تیرہ سو سال اس علاقے۔۔۔۔
کے لیے ایک دوسرے سے لڑتے رہے۔۔۔ ہمارے علم‘ فلسفے‘ سائنس اور ایجادات کی 95 فیصد تاریخ بھی ابتدائی تین سو سال تک محدود تھی۔۔۔ہم نے اس کے بعد باقی ہزار سال تک حرام خوری کے سوا کچھ نہیں کیا‘ عالم اسلام ہزار سال سے نیل کٹڑ سے لے کر کنگھی تک ان لوگوں کی استعمال کر رہا ہے۔۔۔۔
جنھیں ہم دن میں پانچ بار بددعائیں دیتے ہیں۔
ہم ادویات بھی یہودیوں کی کھاتے ہیں۔۔۔بارود بھی کافروں کا استعمال کرتے ہیں اور پوری دنیا پر اسلام کے غلبے کے خواب بھی دیکھتے ہیں‘ ہم خود کو دنیا کی بہادر ترین قوم سمجھتے ہیں لیکن ہم نے پچھلے پانچ سو سال میں کافروں کے خلاف کوئی۔۔۔
بڑی جنگ نہیں جیتی‘ ہم پانچ صدیوں سے مار اور صرف مار کھا رہے ہیں‘ پہلی جنگ عظیم سے قبل پورا عرب ایک تھا‘ یہ خلافت عثمانیہ کا حصہ ہوتا تھا‘ یورپ نے 1918ء میں عرب کو 12ملکوں میں تقسیم کر دیا اور دنیا کی بہادر ترین قوم دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔
مغربی طاقتوں نے عربوں کی زمین۔۔۔
چھین کر اسرائیل بنایا اور ہم رونے دھونے اور یوم القدس منانے کے سوا کچھ نہیں کر رہے۔۔۔ ہم اگر جنگجو تھے‘ ہمارا اگر لڑنے کا چودہ سو سال کا تجربہ تھا تو ہم کم از کم لڑائی ہی میں ’’پرفیکٹ‘‘ ہو جاتے اور کم از کم دنیا کے ہر ہتھیار پر ’’میڈ بائی مسلم‘‘ کی مہر ہی لگ جاتی تو آج۔۔۔
کم از کم عراق‘ لیبیا‘ مصر‘ افغانستان، کشمیر اور شام انسانی المیہ نہ بن رہے ہوتے۔
اسے ہماری بدقسمتی کہیں یا نا اہلی کہ ہم لوگ آج یورپی بندوقوں‘ ٹینکوں‘ توپوں‘ گولوں‘ گولیوں اور امریکی جنگی جہازوں کے بغیر خانہ کعبہ کی حفاظت بھی نہیں کر سکتے‘ ہماری تعلیم کا حال یہ ہے کہ۔۔۔
دنیا کی 100 بڑی یونیورسٹیوں کی فہرست میں اسلامی دنیا کی ایک بھی یونیورسٹی نہیں آتی‘ساری اسلامی دنیا مل کر جتنے ریسرچ پیپر تیار کرتی ہے وہ امریکا کے ایک شہر بوسٹن میں ہونے والی ریسرچ کا نصف بنتا ہے۔
دنیا کی نوے فیصد تاریخ اسلامی ملکوں میں ہے لیکن اسلامی دنیا کے نوے فیصد۔۔۔
خوشحال لوگ سیاحت کے لیے مغربی ملکوں میں جاتے ہیں۔۔۔ہم نے پانچ سو سال سے دنیا کو کوئی دواء‘ کوئی ہتھیار‘ کوئی نیا فلسفہ‘ کوئی خوراک‘ کوئی اچھی کتاب‘ کوئی نیا کھیل اور کوئی اچھا قانون نہیں دیا۔
ہم تو حرمین شریفین کے لیے ساؤنڈ سسٹم بھی یہودی کمپنیوں سے خریدتے ہیں‘ ہمارے لیے۔۔۔
آب زم زم بھی کافر کمپنیاں نکالتی ہیں‘ ہماری تسبیحات اور جاء نمازیں بھی چین سے آتی ہیں۔ ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ حقیقت ہے دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمان صارف سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے‘ یورپ نعمتیں ایجاد کرتا ہے‘ بناتا ہے‘ اسلامی دنیا تک پہنچاتا ہے اور ہم استعمال کرتے ہیں۔۔۔
اور اس کے بعد بنانے والوں اور ایجاد کرنے والوں کو آنکھیں نکالتے ہیں۔
آپ یقین کیجیے جس سال آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے سعودی عرب کو بھیڑیں دینے سے انکار کر دیا اس سال مسلمان حج پر قربانی نہیں کر سکیں گے اور جس دن یورپ اور امریکا نے اسلامی دنیا کو گاڑیاں‘ جہاز اور کمپیوٹر بیچنا۔۔۔
بند کر دیے، اس دن ہمیں دن میں تارے نظر آجائیں گے۔۔۔ یہ ہیں ہم اور یہ ہے ہماری اوقات لیکن آپ کسی دن اپنے دعوے سن لیں۔
ہم نے آخر آج تک کیا کیا ہے؟ ہم کس برتے پر خود کو دنیا کی عظیم ترین قوم سمجھتے ہیں! مجھے آج تک اس سوال کا جواب نہیں مل سکا!!!!
You can follow @Kuch_seekh_lo.
Tip: mention @twtextapp on a Twitter thread with the keyword “unroll” to get a link to it.

Latest Threads Unrolled:

By continuing to use the site, you are consenting to the use of cookies as explained in our Cookie Policy to improve your experience.